2 مارچ 2013 - 20:30

سیاسی امور میں امریکہ کے نائب وزيرخارجہ وندی شرمین آج بروز اتوار مقبوضہ فلسطین کےدورے پر پہچے ہیں تاکہ صہیونی حکام کوآلماتی میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونےوالےمذاکرات کی تفصیلات سےآگاہ کریں۔ آلماتی مذاکرات میں امریکہ کےمذاکرات کار وندی شرمین نے اس سےقبل بغداد اور ماسکو میں ہونےوالےمذاکرات کی تفصیلات صیہونی حکومت کےسامنےپیش کرنےکےلئے بھی تل ابیب کادورہ کیاتھا۔ آلماتی مذاکرات، تجاویز کاجائزہ لینےکی غرض سے ماہرین کےاجلاس اور ایران وگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان آئندہ بھی مذاکرات جاری رکھنے کےفصیلےکےساتھ گذشتہ بدہ کواختتام پذیرہوئےتھے۔

ابنا: امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکےآلماتی مذاکرات کومفید قراردیا لیکن اسرئیل کی قومی سلامتی کےمشیر یاکوف آمیدرود نے وندی شرمین سےملاقات میں دعوی کیاکہ ان مذاکرات سے صرف یہ حاصل ہوتا ہےکہ ایران کو ایٹمی ہتھیاربنانے کےلئے مزیدوقت دے دیاجاتاہے۔ آلماتی مذاکرات کےبعد، اسرائیلی وزيراعظم نتن یاھو نے بھی بےبنیاد دعوؤں کودہراتے ہوئے کہاکہ اگرایران اپنا ایٹمی پروگرام روکنے کےلئے درخواستوں پرتوجہ نہیں دے گا تواسے فوجی سزا ملےگی۔نتن یاھو نے اس سےقبل بھی ایران کےلئے ریڈ لائن کھیچنتےہوئے دھمکی دی تھی کہ ایران کو ریڈ لائن عبور کرنے کاسخت نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان مذاکرات جب بھی  مثبت اورتعمیری ماحول میں داخل ہوئے ہیں تو صیہونی حکام بزعم خود، عالمی رائےعامہ میں ایران کی شبیہ خراب کرنے کےلئے ہرطرح کاہتھکنڈہ اختیارکیا ہے۔صیہونی وزيراعظم نتن یاھو نے گذشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی یہی رویہ اختیارکرتےہوئے ایک ڈرائینگ کی شکل میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کوبیان کرنےاوراسے ایک خطرہ بناکرپیش کرنےکی کوشش کی جس کادنیا نے مذاق اڑایاتھا۔کیونکہ خود صیہونی حکومت کےپاس کم سےکم تین سوایٹمی وارہیڈز موجود ہیں جواسے امریکہ برطانیہ اور فرانس نےدیئےہيں اس لحاظ سے وہ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ عالمی امن کےلئےخطرہ شمار ہوتی ہے۔ جبکہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں پوری طرح ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی اور این پی ٹی معاہدے کےتناظرمیں انجام پارہی ہیں اوریورےنیم کی افزودگی بھی ایٹمی ری ایکٹر اورایٹمی بجلی گھر کےایندھن کےلئےبیس فیصد سےبھی کم انجام پارہی ہے۔اگرچہ ابھی سےآئندہ آلماتی مذاکرات کی پیشین گوئی مشکل کام ہے لیکن ایسانظرآتا ہے کہ مغرب نے ان مذاکرات میں ایران کی جانب سےپیش کی جانےوالی تجاویز سےفائدہ اٹھاتےہوئے طرفین  کی تجاویز کےمحور کےتناظرمیں سنجیدہ گفتگوکرنےکی کوشش کرےگا۔ماہرین کاخیال ہےکہ گروپ پانچ جمع ایک اگران مذاکرات کو نیک نیتی سےانجام دےتواس میں پیشرفت کاامکان موجود ہے لیکن واضح ہےکہ مغرب نےگذشتہ دس برسوں سےایران کی ایٹمی سرگرمیوں کےبارےمیں جو دشمنانہ اورغیرمنطقی رویہ اختیارکررکھا ہے وہ نہایت پیچیدہ ہے اورایک یا چند نشست میں اس کےحل کی توقع نہيں کی جاسکتی۔اس طرح کےمسائل کےحل کےلئے وقت، پیشہ ورانہ مہارت، اورقدم بہ قدم دوطرفہ اقدام کی ضرورت ہے بالخصوص ایسی صورت میں جب مذاکرات اوراس کےنتائج کوخراب کرنےکی کوشش کی جارہی ہو۔ مذاکرات کوحاشیے پرڈالنے کےلئےصیہونی حکام کےتوقع کےعین مطابق بیانات، اس طرح کےاقدامات کانمونہ ہیں۔درحقیقت ایران کےپرامن ایٹمی پروگرام کےبارےمیں صیہونی حلقوں کی جانب سے ریڈلائن کاتعین، آگےکی جانب فرار ہے جوصیہونی حلقوں کی ہنگامہ آرائی کی شکل میں سامنےآرہا ہے ۔امریکہ اوراسرائیل کی سفارتکاری درحقیقت ان بےبنیاد دعوؤں کی تکرار ہے  جن کامقصد ایران کو علاقےمیں امریکہ اوراسرائیل کےناجائز مقاصد کےسامنےخودمختاری پرمبنی موقف میں تبدیلی لانے پرمجبورکرنا اور ایران کی پیشرفت کےراستےمیں روکاوٹ کھڑی کرنا ہے۔

.....

/169